شہریار — شاعر کی تصویر

بہتے دریاؤں میں پانی کی کمی دیکھنا ہے — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

بہتے دریاؤں میں پانی کی کمی دیکھنا ہے

بہتے دریاؤں میں پانی کی کمی دیکھنا ہے
عمر بھر مجھ کو یہی تشنہ لبی دیکھنا ہے
رنج دل کو ہے کہ جی بھر کے نہیں دیکھا تجھے
خوف اس کا تھا جو آئندہ کبھی دیکھنا ہے
شب کی تاریکی در خواب ہمیشہ کو بند
چند دن بعد تو دنیا میں یہی دیکھنا ہے
خون کے قطروں نے طوفان اٹھا رکھا ہے
اب رگ و پے میں مجھے برف جمی دیکھنا ہے
کس طرح رینگنے لگتے ہیں یہ چلتے ہوئے لوگ
یارو کل دیکھو گے یا آج ابھی دیکھنا ہے

Behte daryaoN mein paani ki kami dekhna hai

Behte daryaoN mein paani ki kami dekhna hai
Umar bhar mujh ko yehi tishna-labi dekhna hai
Ranj dil ko hai ke jee bhar ke nahiN dekha tujhe
Khauf us ka tha jo aainda kabhi dekhna hai
Shab ki tareeki dar-e-khwaab hamesha ko band
Chand din baad toh duniya mein yehi dekhna hai
Khoon ke qatroN ne toofaan uThaa rakha hai
Ab rag-o-pey mein mujhe barf jami dekhna hai
Kis tarah reengne lagte hain yeh chalte hue log
Yaaro kal dekho ge ya aaj abhi dekhna hai

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام