شہریار — شاعر کی تصویر

بھولی بسری یادوں کی بارات نہیں آئی — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

بھولی بسری یادوں کی بارات نہیں آئی

بھولی بسری یادوں کی بارات نہیں آئی
اک مدت سے ہجر کی لمبی رات نہیں آئی
آتی تھی جو روز گلی کے سونے نکڑ تک
آج ہوا کیا وہ پرچھائیں سات نہیں آئی
مجھ کو تعاقب میں لے آئی اک انجان جگہ
خوشبو تو خوشبو تھی میرے ہات نہیں آئی
اس دنیا سے ان کا رشتہ آدھا ادھورا ہے
جن لوگوں تک خوابوں کی سوغات نہیں آئی
اوپر والے کی من مانی کھلنے لگی ہے اب
مینہ برسا دو چار دفعہ برسات نہیں آئی

Bholi bisri yaadon ki baraat nahin aai

Bholi bisri yaadon ki baraat nahin aai
Ek muddat se hijr ki lambi raat nahin aai
Aati thi jo roz gali ke soone nukkad tak
Aaj hua kya woh parchhaiyan saath nahin aai
Mujh ko taaqub mein le aai ek anjaan jagah
Khushboo to khushboo thi mere haath nahin aai
Is duniya se un ka rishta aadha adhura hai
Jin logon tak khwabon ki saughat nahin aai
Upar wale ki man maani khulne lagi hai ab
Meenh barsa do char dafa barsaat nahin aai

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام