بھولی بسری یادوں کی بارات نہیں آئی
اک مدت سے ہجر کی لمبی رات نہیں آئی
آتی تھی جو روز گلی کے سونے نکڑ تک
آج ہوا کیا وہ پرچھائیں سات نہیں آئی
مجھ کو تعاقب میں لے آئی اک انجان جگہ
خوشبو تو خوشبو تھی میرے ہات نہیں آئی
اس دنیا سے ان کا رشتہ آدھا ادھورا ہے
جن لوگوں تک خوابوں کی سوغات نہیں آئی
اوپر والے کی من مانی کھلنے لگی ہے اب
مینہ برسا دو چار دفعہ برسات نہیں آئی
شہریار
Bhoolee bisri yaadoN ki baaraat nahiN aayi
Ek muddat se hijr ki lambi raat nahiN aayi
Aati thi jo roz gali ke soone nukkaR tak
Aaj hua kya woh parchhaaiyaaN saath nahiN aayi
Mujh ko ta'aaqub mein le aayi ek anjaan jagah
Khushboo toh khushboo thi mere haath nahiN aayi
Is duniya se un ka rishta aadha adhoora hai
Jin logoN tak khwaaboN ki saughaath nahiN aayi
Upar waale ki man-maani khulne lagi hai ab
Meenh barsa do chaar dafa barsaat nahiN aayi
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں