بنیاد جہاں میں کجی کیوں ہے
ہر شے میں کسی کی کمی کیوں ہے
کیوں چہرۂ خار شگفتہ ہے
اور شاخ گلاب جھکی کیوں ہے
وہ وصل کا دن کیوں چھوٹا تھا
یہ ہجر کی رات بڑی کیوں ہے
جس بات سے دل میں ہلچل ہے
وہ بات لبوں پہ رکی کیوں ہے
مت دیکھ کہ کون ہے پروانہ
یہ سوچ کہ شمع جلی کیوں ہے
نہ تھے خواب تو آنسو ہی ہوتے
مرا کاسۂ چشم تہی کیوں ہے
شہریار
Bunyad-e-jahan mein kaji kyun hai
Har shay mein kisi ki kami kyun hai
Kyun chehra-e-khaar shagufta hai
Aur shaakh-e-gulab jhuki kyun hai
Woh vasl ka din kyun chhota tha
Ye hijr ki raat badi kyun hai
Jis baat se dil mein halchal hai
Woh baat labon pe ruki kyun hai
Mat dekh ke kaun hai parwana
Ye soch ke shama jali kyun hai
Na the khwab to aansu hi hote
Mera kaasa-e-chashm tahi kyun hai
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں