شہریار — شاعر کی تصویر

دام الفت سے چھوٹتی ہی نہیں — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

دام الفت سے چھوٹتی ہی نہیں

دام الفت سے چھوٹتی ہی نہیں
زندگی تجھ کو بھولتی ہی نہیں
کتنے طوفاں اٹھائے آنکھوں نے
ناؤ یادوں کی ڈوبتی ہی نہیں
تجھ سے ملنے کی تجھ کو پانے کی
کوئی تدبیر سوجھتی ہی نہیں
ایک منزل پہ رک گئی ہے حیات
یہ زمیں جیسے گھومتی ہی نہیں
لوگ سر پھوڑ کر بھی دیکھ چکے
غم کی دیوار ٹوٹتی ہی نہیں

Daam-e-ulfat se chhoot'ti hi nahin

Daam-e-ulfat se chhoot'ti hi nahin
Zindagi tujh ko bhoolti hi nahin
Kitne toofan uthaye aankhon ne
Naao yaadon ki doobti hi nahin
Tujh se milne ki tujh ko paane ki
Koi tadbir soojhti hi nahin
Ek manzil pe ruk gayi hai hayat
Ye zameen jaise ghoomti hi nahin
Log sar phod kar bhi dekh chuke
Gham ki deewar toot'ti hi nahin

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام