شہریار — شاعر کی تصویر

دیکھ دریا کو کہ طغیانی میں ہے — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

دیکھ دریا کو کہ طغیانی میں ہے

دیکھ دریا کو کہ طغیانی میں ہے
تو بھی میرے ساتھ اب پانی میں ہے
نور یہ اس آخری بوسے کا ہے
چاند سا کیا تیری پیشانی میں ہے
میں بھی جلدی میں ہوں کیسے بات ہو
تو بھی لگتا ہے پریشانی میں ہے
مدعی سورج کا سارا شہر ہے
رات یہ کس کی نگہبانی میں ہے
سارے منظر ایک سے لگنے لگے
کون شامل میری حیرانی میں ہے

Dekh dariya ko ke tughyaani mein hai

Dekh dariya ko ke tughyaani mein hai
Tu bhi mere saath ab paani mein hai
Noor ye us aakhri bose ka hai
Chand sa kya teri peshani mein hai
Main bhi jaldi mein hun kaise baat ho
Tu bhi lagta hai pareshani mein hai
Mudda'i suraj ka saara shahr hai
Raat ye kis ki nigahbaani mein hai
Saare manzar ek se lagne lage
Kaun shaamil meri hairaani mein hai

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام