شہریار — شاعر کی تصویر

دھوپ کے دشت میں بے سایہ شجر میں ہم تھے — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

دھوپ کے دشت میں بے سایہ شجر میں ہم تھے

دھوپ کے دشت میں بے سایہ شجر میں ہم تھے
منہمک پھر بھی سرابوں کے سفر میں ہم تھے
منتشر کر چکی آندھی تو یہ معلوم ہوا
اک بگولے کی طرح ریت کے گھر میں ہم تھے
تیری آواز کے جادو نے خبردار کیا
نا سمجھ تھے کہ بلاؤں کے اثر میں ہم تھے
تا نہ شاکی رہے دریائے ہوس کی کوئی موج
بادباں جسم کے کھولے کہ بھنور میں ہم تھے
یہ ترے قرب کا اعجاز ہے ورنہ پہلے
طاق اتنے کہاں جینے کے ہنر میں ہم تھے

Dhoop ke dasht mein be-saaya shajar mein hum the

Dhoop ke dasht mein be-saaya shajar mein hum the
Munhamak phir bhi sarabon ke safar mein hum the
Muntashir kar chuki aandhi to ye maloom hua
Ek bagule ki tarah ret ke ghar mein hum the
Teri awaaz ke jaadu ne khabardar kiya
Na samajh the ke balaaon ke asar mein hum the
Ta na shaki rahe darya-e-hawas ki koi mauj
Baadbaan jism ke khole ke bhanwar mein hum the
Ye tere qurb ka eijaz hai warna pehle
Taaq itne kahan jeene ke hunar mein hum the

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام