شہریار — شاعر کی تصویر

دل میں رکھتا ہے نہ پلکوں پہ بٹھاتا ہے مجھے — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

دل میں رکھتا ہے نہ پلکوں پہ بٹھاتا ہے مجھے

دل میں رکھتا ہے نہ پلکوں پہ بٹھاتا ہے مجھے
پھر بھی اک شخص میں کیا کیا نظر آتا ہے مجھے
رات کا وقت ہے سورج ہے مرا راہنما
دیر سے دور سے یہ کون بلاتا ہے مجھے
میری ان آنکھوں کو خوابوں سے پشیمانی ہے
نیند کے نام سے جو ہول سا آتا ہے مجھے
تیرا منکر نہیں اے وقت مگر دیکھنا ہے
بچھڑے لوگوں سے کہاں کیسے ملاتا ہے مجھے
قصۂ درد میں یہ بات کہاں سے آئی
میں بہت ہنستا ہوں جب کوئی سناتا ہے مجھے

Dil mein rakhta hai na palkon pe bithata hai mujhe

Dil mein rakhta hai na palkon pe bithata hai mujhe
Phir bhi ek shakhs mein kya kya nazar aata hai mujhe
Raat ka waqt hai suraj hai mera rahnuma
Der se door se yeh kaun bulata hai mujhe
Meri in aankhon ko khwabon se pashemani hai
Neend ke naam se jo haul sa aata hai mujhe
Tera munkir nahin ai waqt magar dekhna hai
Bichhde logon se kahan kaise milata hai mujhe
Qissa-e-dard mein yeh baat kahan se aayi
Main bahut hansta hoon jab koi sunata hai mujhe

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام