دل میں اترے گی تو پوچھے گی جنوں کتنا ہے
نوک خنجر ہی بتائے گی کہ خوں کتنا ہے
آندھیاں آئیں تو سب لوگوں کو معلوم ہوا
پرچم خواب زمانے میں نگوں کتنا ہے
جمع کرتے رہے جو اپنے کو ذرہ ذرہ
وہ یہ کیا جانیں بکھرنے میں سکوں کتنا ہے
وہ جو پیاسے تھے سمندر سے بھی پیاسے لوٹے
ان سے پوچھو کہ سرابوں میں فسوں کتنا ہے
ایک ہی مٹی سے ہم دونوں بنے ہیں لیکن
تجھ میں اور مجھ میں مگر فاصلہ یوں کتنا ہے
شہریار
Dil mein utregi to poochhegi junoon kitna hai
Nok-e-khanjar hi batayegi ke khoon kitna hai
Aandhiyan aayin to sab logon ko maloom hua
Parcham-e-khwaab zamane mein nigoon kitna hai
Jama karte rahe jo apne ko zarra zarra
Woh yeh kya jaanen bikharne mein sukoon kitna hai
Woh jo pyaase the samundar se bhi pyaase laute
Un se poocho ke sarabon mein fasoon kitna hai
Ek hi mitti se hum donon bane hain lekin
Tujh mein aur mujh mein magar fasila yoon kitna hai
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں