کٹ گیا دن ڈھلی شام شب آ گئی
پھر زمیں اپنے محور سے ہٹنے لگی
چاندنی کروٹیں پھر بدلنے لگی
آہٹوں کے سسکتے ہوئے شور سے
پھر مکاں بھر گیا
زہر سپنوں کا پی کر
کوئی آج کی رات پھر مر گیا!
شہریار
Kat gaya din dhali shaam shab aa gayi
Phir zameen apne mehwar se hatne lagi
Chandni karwatein phir badalne lagi
Aahaton ke sisakte hue shor se
Phir makaan bhar gaya
Zehar sapnon ka pee kar
Koi aaj ki raat phir mar gaya!
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں