میں کورے کاغذ پر لکھوں پھر ایک کالی نظم
الکھ جگاتے سناٹوں سے پھر سے سجاؤں بزم
گدر امرودوں کی خوشبو پاگل کر جائے
میری ان خالی آنکھوں کو جل تھل کر جائے
دور درندوں کی آوازیں خود سے لڑتی ہوں
میرے اس کے بیچ میں لمبی راتیں پڑتی ہوں
شکنوں سے عاری اک بستر مجھ کو تکتا ہو
جسم مرا جب آدھا سوتا آدھا جگتا ہو
تب میں کروں یہ عزم
کہ لکھوں کوئی کالی نظم
شہریار
Main kore kagaz par likhoon phir ek kaali nazm
Alakh jagate sannaton se phir se sajaoon bazm
Gadar amroodon ki khushboo pagal kar jaaye
Meri un khaali aankhon ko jal thal kar jaaye
Door darindon ki aawazen khud se ladti hon
Mere us ke beech mein lambi raaten padti hon
Shikanon se aari ik bistar mujh ko takta ho
Jism mera jab aadha sota aadha jagta ho
Tab main karoon yeh azm
Ke likhoon koi kaali nazm
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں