شہریار — شاعر کی تصویر

ایک خوش خبری — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

ایک خوش خبری

ہنسو کہ سرخ و گرم خون پھر سفید ہو گیا
ہنسو کہ نقطۂ امید پھر خلا کے دائرے میں آج قید ہو گیا
ہنسو کہ دشت آرزو میں تھک تھکا کے سب بگولے سو گئے
ہنسو کہ شہر زندگی کا بے فصیل ہو گیا
ہنسو کہ سایۂ صلیب پھر طویل ہو گیا

Ek Khush Khabri

Hansoo ke surkh o garam khoon phir safed ho gaya
Hansoo ke nuqta-e-umeed phir khala ke daire mein aaj qaid ho gaya
Hansoo ke dasht-e-aarzoo mein thak thaka ke sab bagule so gaye
Hansoo ke shehr-e-zindagi ka be-faseel ho gaya
Hansoo ke saaya-e-saleeb phir taweel ho gaya

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام