شہریار — شاعر کی تصویر

ایک لمحے سے دوسرے لمحے تک — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

ایک لمحے سے دوسرے لمحے تک

ایک آہٹ ابھی دروازے پہ لہرائی تھی
ایک سرگوشی ابھی کانوں سے ٹکرائی تھی
ایک خوشبو نے ابھی جسم کو سہلایا تھا
ایک سایہ ابھی کمرے میں مرے آیا تھا
اور پھر نیند کی دیوار کے گرنے کی صدا
اور پھر چاروں طرف تیز ہوا!!

Ek Lamhe Se Dusre Lamhe Tak

Ek aahat abhi darwaze pe lehrai thi
Ek sargoshi abhi kaanon se takrai thi
Ek khushboo ne abhi jism ko sehlaya tha
Ek saaya abhi kamre mein mere aaya tha
Aur phir neend ki deewar ke girne ki sada
Aur phir charon taraf tez hawa!!

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام