مگر بے ذائقہ ہونٹوں سے
تم نے سخت چٹانوں کو چوما تھا
وہ ان کی کھردراہٹ نوک نکلی چھاتیاں
تیزابیت نمکین کائی
سب کی لذت سے رہے نا آشنا بچے تمہارے
اسی باعث تو ان کے جسم میں خوں کی جگہ پانی کی گردش ہے
اسی باعث وہ اپنی نفرتوں کے خود ہدف ہیں
اور دشمن ان پہ ہنستے ہیں
شہریار
Magar be-zaaiqa honton se
Tum ne sakht chatanoon ko chooma tha
Woh un ki khurdurahat nok nikli chhatiyaan
Tezabyat namkeen kaayi
Sab ki lazzat se rahe naa-ashna bache tumhare
Isi baais to un ke jism mein khoon ki jagah pani ki gardish hai
Isi baais woh apni nafraton ke khud hadaf hain
Aur dushman un pe hanste hain
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں