وہ دور بلند پہاڑوں پر
ملبوس فرشتوں کا پہنے
خوابوں کے مہیب درختوں کی
شاخوں پر جھولا ڈالے ہوئے
پرچھائیاں چھوٹی بڑی لاکھوں
مصروف ہیں زخم شماری میں
میں ایک نحیف سے نقطے کی
بانہوں میں اسیر تڑپتا ہوں
ہموار زمیں پر چلنے کی
خواہش کے عذاب میں جلتا ہوں
شہریار
Woh door buland pahaadon par
Malboos farishton ka pehne
Khwaabon ke maheeb darakhton ki
Shaakhon par jhoola daale hue
Parchhaiyan chhoti badi laakhon
Masroof hain zakhm shumari mein
Main ek naheef se nuqte ki
Baanhon mein aseer tadapta hoon
Hamwaar zameen par chalne ki
Khwahish ke azaab mein jalta hoon
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں