شہریار — شاعر کی تصویر

فضائے میکدہ بے رنگ لگ رہی ہے مجھے — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

فضائے میکدہ بے رنگ لگ رہی ہے مجھے

فضائے میکدہ بے رنگ لگ رہی ہے مجھے
رگ گلاب رگ سنگ لگ رہی ہے مجھے
یہ چند دن میں قیامت گزر گئی کیسی
کہ آج صلح تری جنگ لگ رہی ہے مجھے
مرے مکان سے دو گام پر ہے تیری گلی
یہ آج سیکڑوں فرسنگ لگ رہی ہے مجھے
نوائے نغمہ بھی ہیں سوز و ساز سے خالی
فغاں بھی خارج از آہنگ لگ رہی ہے مجھے
ضرور پھر کوئی افتاد پڑنے والی ہے
کہ یہ زمین بہت تنگ لگ رہی ہے مجھے

Faza-e-maikada be-rang lag rahi hai mujhe

Faza-e-maikada be-rang lag rahi hai mujhe
Rag-e-gulab rag-e-sang lag rahi hai mujhe
Ye chand din mein qayamat guzar gayi kaisi
Ke aaj sulah teri jang lag rahi hai mujhe
Mere makaan se do gaam par hai teri gali
Ye aaj sainkron farsang lag rahi hai mujhe
Nawa-e-naghma bhi hain soz-o-saaz se khaali
Fughan bhi khaarij az aahang lag rahi hai mujhe
Zaroor phir koi iftaad padne wali hai
Ke ye zameen bahut tang lag rahi hai mujhe

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام