شہریار — شاعر کی تصویر

گلاب جسم کا یوں ہی نہیں کھلا ہوگا — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

گلاب جسم کا یوں ہی نہیں کھلا ہوگا

گلاب جسم کا یوں ہی نہیں کھلا ہوگا
ہوا نے پہلے تجھے پھر مجھے چھوا ہوگا
شریر شوخ کرن مجھ کو چوم لیتی ہے
ضرور اس میں اشارہ ترا چھپا ہوگا
مری پسند پہ تجھ کو بھی رشک آئے گا
کہ آئنے سے جہاں تیرا سامنا ہوگا
یے اور بات کہ میں خود نہ پاس آ پائی
پہ مرا سایہ تو ہر شب تجھے ملا ہوگا
یے سوچ سوچ کے کٹتی نہیں ہے رات مری
کہ تجھ کو سوتے ہوئے چاند دیکھتا ہوگا
میں تیرے ساتھ رہوں گی وفا کی راہوں میں
یہ عہد ہے نہ مرے دل سے تو جدا ہوگا

Gulab jism ka yoon hi nahin khula hoga

Gulab jism ka yoon hi nahin khula hoga
Hawa ne pehle tujhe phir mujhe chhua hoga
Shareer shokh kiran mujh ko choom leti hai
Zaroor is mein ishara tera chhupa hoga
Meri pasand pe tujh ko bhi rashk aaega
Ke aaine se jahan tera samna hoga
Ye aur baat ke main khud na paas aa paayi
Pe mera saaya to har shab tujhe mila hoga
Ye soch soch ke katti nahin hai raat meri
Ke tujh ko sote hue chand dekhta hoga
Main tere saath rahungi wafa ki raahon mein
Yeh ahd hai na mere dil se tu juda hoga

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام