گزرے تھے حسین ابن علی رات ادھر سے
ہم میں سے مگر کوئی بھی نکلا نہیں گھر سے
اس بات پہ کس واسطے حیران ہیں آنکھیں
پت جھڑ ہی میں ہوتے ہیں جدا پتے شجر سے
تو یوں ہی پشیماں ہے سبب تو نہیں اس کا
نیند آتی نہیں ہم کو کسی خواب کے ڈر سے
سنتے ہیں بہت نام کبھی دیکھتے ہم بھی
اے موج بلا تجھ کو گزرتے ہوئے سر سے
تھکنا ہے ٹھہرنا ہے بہرحال سبھی کو
جی اپنا بھی بھر جائے گا اک روز سفر سے
شہریار
Guzre the Hussain ibn-e-Ali raat idhar se
Hum mein se magar koi bhi nikla nahin ghar se
Is baat pe kis waaste hairan hain aankhein
Patjhad hi mein hote hain juda patte shajar se
Tu yoon hi pasheman hai sabab to nahin is ka
Neend aati nahin hum ko kisi khwab ke dar se
Sunte hain bahut naam kabhi dekhte hum bhi
Aye mauj-e-bala tujh ko guzarte hue sar se
Thakna hai theharna hai baharhaal sabhi ko
Jee apna bhi bhar jaayega ek roz safar se
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں