ہماری آنکھ میں نقشہ یہ کس مکان کا ہے
یہاں کا سارا علاقہ تو آسمان کا ہے
ہمیں نکلنا پڑا رات کے جزیرے سے
خطر اگرچہ اس اک فیصلے میں جان کا ہے
خبر نہیں ہے کہ دریا میں کشتیٔ جاں ہے
معاہدہ جو ہواؤں سے بادبان کا ہے
تمام شہر پہ خاموشیاں مسلط ہیں
لبوں کو کھولو کہ یہ وقت امتحان کا ہے
کہا ہے اس نے تو گزرے گا جسم سے ہو کر
یقین یوں ہے وہ پکا بہت زبان کا ہے
شہریار
Hamari aankh mein naqsha ye kis makan ka hai
Yahan ka sara ilaqa to aasman ka hai
Hamein nikalna pada raat ke jazire se
Khatar agarche us ik faisle mein jaan ka hai
Khabar nahin hai ke darya mein kashti jaan hai
Moahida jo hawaon se baadban ka hai
Tamam shahar pe khamoshiyan musallat hain
Labon ko kholo ke ye waqt imtihan ka hai
Kaha hai us ne to guzrega jism se ho kar
Yaqeen yun hai woh pakka bahut zaban ka hai
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں