شہریار — شاعر کی تصویر

ہماری آنکھ میں نقشہ یہ کس مکان کا ہے — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

ہماری آنکھ میں نقشہ یہ کس مکان کا ہے

ہماری آنکھ میں نقشہ یہ کس مکان کا ہے
یہاں کا سارا علاقہ تو آسمان کا ہے
ہمیں نکلنا پڑا رات کے جزیرے سے
خطر اگرچہ اس اک فیصلے میں جان کا ہے
خبر نہیں ہے کہ دریا میں کشتیٔ جاں ہے
معاہدہ جو ہواؤں سے بادبان کا ہے
تمام شہر پہ خاموشیاں مسلط ہیں
لبوں کو کھولو کہ یہ وقت امتحان کا ہے
کہا ہے اس نے تو گزرے گا جسم سے ہو کر
یقین یوں ہے وہ پکا بہت زبان کا ہے

Hamari aankh mein naqsha yeh kis makan ka hai

Hamari aankh mein naqsha yeh kis makan ka hai
Yahan ka sara ilaaqa to asman ka hai
Hamein nikalna pada raat ke jazeere se
Khatar agarche uss ik faisle mein jaan ka hai
Khabar nahin hai ke darya mein kashti-e-jaan hai
Mo'ahida jo hawaon se baadbaan ka hai
Tamam shahar pe khamoshiyan musallat hain
Labon ko kholo ke yeh waqt imtihan ka hai
Kaha hai uss ne to guzre ga jism se ho kar
Yaqeen yoon hai woh pakka bahut zabaan ka hai

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام