شہریار — شاعر کی تصویر

ہنس رہا تھا میں بہت گو وقت وہ رونے کا تھا — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

ہنس رہا تھا میں بہت گو وقت وہ رونے کا تھا

ہنس رہا تھا میں بہت گو وقت وہ رونے کا تھا
سخت کتنا مرحلہ تجھ سے جدا ہونے کا تھا
رتجگے تقسیم کرتی پھر رہی ہیں شہر میں
شوق جن آنکھوں کو کل تک رات میں سونے کا تھا
اس سفر میں بس مری تنہائی میرے ساتھ تھی
ہر قدم کیوں خوف مجھ کو بھیڑ میں کھونے کا تھا
ہر بن مو سے درندوں کی صدا آنے لگی
کام ہی ایسا بدن میں خواہشیں بونے کا تھا
میں نے جب سے یہ سنا ہے خود سے بھی نادم ہوں میں
ذکر تجھ ہونٹوں پہ میرے در بدر ہونے کا تھا

Hans raha tha main bahut go waqt woh rone ka tha

Hans raha tha main bahut go waqt woh rone ka tha
Sakht kitna marhala tujh se juda hone ka tha
Ratjage taqseem karti phir rahi hain shehar mein
Shauq jin aankhon ko kal tak raat mein sone ka tha
Is safar mein bas meri tanhai mere saath thi
Har qadam kyun khauf mujh ko bheed mein khone ka tha
Har ban mo se darindon ki sada aane lagi
Kaam hi aisa badan mein khwahishein bone ka tha
Maine jab se yeh suna hai khud se bhi nadim hoon main
Zikr tujh honton pe mere dar badar hone ka tha

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام