شہریار — شاعر کی تصویر

ہوا چلے ورق آرزو پلٹ جائے — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

ہوا چلے ورق آرزو پلٹ جائے

ہوا چلے ورق آرزو پلٹ جائے
طلوع ہو کوئی چہرہ تو دھند چھٹ جائے
یہی ہے وقت کہ خوابوں کے بادباں کھولو
کہیں نہ پھر سے ندی آنسوؤں کی گھٹ جائے
بلندیوں کی ہوس ہی زمین پر لائی
کہو فلک سے کہ اب راستے سے ہٹ جائے
گرفت ڈھیلی کرو وقت کو گزرنے دو
کہ ڈور پھر نہ کہیں ساعتوں کی کٹ جائے
اسی لیے نہیں سوتے ہیں ہم کہ دنیا میں
شب فراق کی سوغات سب میں بٹ جائے

Hawa chale waraq-e-aarzoo palat jaaye

Hawa chale waraq-e-aarzoo palat jaaye
Tuloo ho koi chehra to dhund chhat jaaye
Yehi hai waqt ke khwabon ke baadbaan kholo
Kahin na phir se nadi aansuon ki ghat jaaye
Bulandiyon ki hawas hi zameen par laai
Kaho falak se ke ab raaste se hat jaaye
Girift dheeli karo waqt ko guzarne do
Ke dor phir na kahin sa'aton ki kat jaaye
Isi liye nahin sote hain hum ke duniya mein
Shab-e-firaq ki saugaat sab mein bat jaaye

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام