شہریار — شاعر کی تصویر

ہوا کا زور ہی کافی بہانہ ہوتا ہے — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

ہوا کا زور ہی کافی بہانہ ہوتا ہے

ہوا کا زور ہی کافی بہانہ ہوتا ہے
اگر چراغ کسی کو جلانا ہوتا ہے
زبانی دعوے بہت لوگ کرتے رہتے ہیں
جنوں کے کام کو کر کے دکھانا ہوتا ہے
ہمارے شہر میں یہ کون اجنبی آیا
کہ روز خواب سفر پہ روانہ ہوتا ہے
کہ تو بھی یاد نہیں آتا یہ تو ہونا تھا
گئے دنوں کو سبھی کو بھلانا ہوتا ہے
اسی امید پہ ہم آج تک بھٹکتے ہیں
ہر ایک شخص کا کوئی ٹھکانہ ہوتا ہے
ہمیں اک اور بھری بزم یاد آتی ہے
کسی کی بزم میں جب مسکرانا ہوتا ہے

Hawa ka zor hi kaafi bahana hota hai

Hawa ka zor hi kaafi bahana hota hai
Agar chiragh kisi ko jalana hota hai
Zabani daawe bahut log karte rehte hain
Junoon ke kaam ko kar ke dikhana hota hai
Hamare shehar mein yeh kaun ajnabi aaya
Ke roz khwab safar pe rawana hota hai
Ke tu bhi yaad nahin aata yeh to hona tha
Gaye dinon ko sabhi ko bhulana hota hai
Isi umeed pe hum aaj tak bhatakte hain
Har ek shakhs ka koi thikana hota hai
Humein ik aur bhari bazm yaad aati hai
Kisi ki bazm mein jab muskurana hota hai

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام