شہریار — شاعر کی تصویر

ہزار بار مٹی اور پائمال ہوئی ہے — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

ہزار بار مٹی اور پائمال ہوئی ہے

ہزار بار مٹی اور پائمال ہوئی ہے
ہماری زندگی تب جا کے بے مثال ہوئی ہے
اسی سبب سے تو پرچھائیں اپنے ساتھ نہیں ہے
صعوبت سفر شوق سے نڈھال ہوئی ہے
سکون پھر بھی تو وحشت سرائے دل میں نہیں ہے
نگاہ یار اگرچہ شریک حال ہوئی ہے
خوشی کے لمحے تو جوں توں گزر گئے ہیں یہاں پر
بس ایک ساعت غم کاٹنی محال ہوئی ہے
لکیر نور کی جو آسمان دل پہ بنی ہے
اندھیری رات کا حملہ ہوا تو ڈھال ہوئی ہے

Hazaar baar mitti aur paayemaal hui hai

Hazaar baar mitti aur paayemaal hui hai
Hamari zindagi tab ja ke be-misaal hui hai
Isi sabab se to parchhaiyan apne saath nahin hai
Sa'oobat-e-safar-e-shauq se nidhaal hui hai
Sukoon phir bhi to wahshat saraye dil mein nahin hai
Nigah-e-yaar agarche shareek-e-haal hui hai
Khushi ke lamhe to jon ton guzar gaye hain yahan par
Bas ek sa'at gham kaatni muhaal hui hai
Lakeer noor ki jo aasmaan-e-dil pe bani hai
Andheri raat ka hamla hua to dhaal hui hai

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام