ہجوم درد ملا زندگی عذاب ہوئی
دل و نگاہ کی سازش تھی کامیاب ہوئی
تمہاری ہجر نوازی پہ حرف آئے گا
ہماری مونس و ہمدم اگر شراب ہوئی
یہاں تو زخم کے پہرے بٹھائے تھے ہم نے
شمیم زلف یہاں کیسے باریاب ہوئی
ہمارے نام پہ گر انگلیاں اٹھیں تو کیا
تمہاری مدح و ستائش تو بے حساب ہوئی
ہزار پرسش غم کی مگر نہ اشک بہے
صبا نے ضبط یہ دیکھا تو لا جواب ہوئی
شہریار
Hujoom-e-dard mila zindagi azab hui
Dil o nigah ki saazish thi kamyab hui
Tumhari hijr nawazi pe harf aayega
Hamari moonis o hamdam agar sharab hui
Yahan to zakhm ke pehre bithaye the hum ne
Shamim-e-zulf yahan kaise baaryab hui
Hamare naam pe gar ungliyan utheen to kya
Tumhari madh o sitaish to be-hisab hui
Hazar pursish-e-gham ki magar na ashk bahe
Saba ne zabt ye dekha to la-jawab hui
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں