شہریار — شاعر کی تصویر

ہم پڑھ رہے تھے خواب کے پرزوں کو جوڑ کے — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

ہم پڑھ رہے تھے خواب کے پرزوں کو جوڑ کے

ہم پڑھ رہے تھے خواب کے پرزوں کو جوڑ کے
آندھی نے یہ طلسم بھی رکھ ڈالا توڑ کے
آغاز کیوں کیا تھا سفر ان خلاؤں کا
پچھتا رہے ہو سبز زمینوں کو چھوڑ کے
اک بوند زہر کے لیے پھیلا رہے ہو ہاتھ
دیکھو کبھی خود اپنے بدن کو نچوڑ کے
کچھ بھی نہیں جو خواب کی صورت دکھائی دے
کوئی نہیں جو ہم کو جگائے جھنجھوڑ کے
ان پانیوں سے کوئی سلامت نہیں گیا
ہے وقت اب بھی کشتیاں لے جاؤ موڑ کے

Hum paRh rahe the khwab ke purzon ko joR ke

Hum paRh rahe the khwab ke purzon ko joR ke
Aandhi ne yeh tilism bhi rakh Daala toR ke
Aaghaz kyoon kiya tha safar un khalaon ka
Pachhta rahe ho sabz zameenon ko chhoR ke
Ek boond zehar ke liye phaila rahe ho haath
Dekho kabhi khud apne badan ko nichoR ke
Kuchh bhi nahin jo khwab ki soorat dikhai de
Koi nahin jo hum ko jagaye jhanjhoR ke
In paaniyon se koi salamat nahin gaya
Hai waqt ab bhi kashtiyan le jaao moR ke

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام