شہریار — شاعر کی تصویر

ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں

ان آنکھوں کی مستی کے مستانے ہزاروں ہیں
ان آنکھوں سے وابستہ افسانے ہزاروں ہیں
اک تم ہی نہیں تنہا الفت میں مری رسوا
اس شہر میں تم جیسے دیوانے ہزاروں ہیں
اک صرف ہمیں مے کو آنکھوں سے پلاتے ہیں
کہنے کو تو دنیا میں مے خانے ہزاروں ہیں
اس شمع فروزاں کو آندھی سے ڈراتے ہو
اس شمع فروزاں کے پروانے ہزاروں ہیں

In aankhon ki masti ke mastaane hazaron hain

In aankhon ki masti ke mastaane hazaron hain
In aankhon se wabasta afsaane hazaron hain
Ek tum hi nahin tanha ulfat mein miri ruswa
Is shahar mein tum jaise deewane hazaron hain
Ek sirf hamein mai ko aankhon se pilate hain
Kahne ko to duniya mein mai-khane hazaron hain
Is shama-e-farozaan ko aandhi se darate ho
Is shama-e-farozaan ke parwane hazaron hain

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام