جاگتا ہوں میں ایک اکیلا دنیا سوتی ہے
کتنی وحشت ہجر کی لمبی رات میں ہوتی ہے
یادوں کے سیلاب میں جس دم میں گھر جاتا ہوں
دل دیوار ادھر جانے کی خواہش ہوتی ہے
خواب دیکھنے کی حسرت میں تنہائی میری
آنکھوں کی بنجر دھرتی میں نیندیں بوتی ہے
خود کو تسلی دینا کتنا مشکل ہوتا ہے
کوئی قیمتی چیز اچانک جب بھی کھوتی ہے
عمر سفر جاری ہے بس یہ کھیل دیکھنے کو
روح بدن کا بوجھ کہاں تک کب تک ڈھوتی ہے
شہریار
Jaagta hoon main ek akela duniya soti hai
Kitni wahshat hijr ki lambi raat mein hoti hai
Yaadon ke sailaab mein jis dam main ghar jaata hoon
Dil deewar udhar jaane ki khwahish hoti hai
Khwab dekhne ki hasrat mein tanhai meri
Aankhon ki banjar dharti mein neendein boati hai
Khud ko tasalli dena kitna mushkil hota hai
Koi qeemati cheez achaanak jab bhi khooti hai
Umar safar jaari hai bas yeh khel dekhne ko
Rooh badan ka bojh kahan tak kab tak dhoati hai
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں