شہریار — شاعر کی تصویر

جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہے — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہے

جب بھی ملتی ہے مجھے اجنبی لگتی کیوں ہے
زندگی روز نئے رنگ بدلتی کیوں ہے
دھوپ کے قہر کا ڈر ہے تو دیار شب سے
سر برہنہ کوئی پرچھائیں نکلتی کیوں ہے
مجھ کو اپنا نہ کہا اس کا گلا تجھ سے نہیں
اس کا شکوہ ہے کہ بیگانہ سمجھتی کیوں ہے
تجھ سے مل کر بھی نہ تنہائی مٹے گی میری
دل میں رہ رہ کے یہی بات کھٹکتی کیوں ہے
مجھ سے کیا پوچھ رہے ہو مری وحشت کا سبب
بوئے آوارہ سے پوچھو کہ بھٹکتی کیوں ہے

Jab bhi milti hai mujhe ajnabi lagti kyoon hai

Jab bhi milti hai mujhe ajnabi lagti kyoon hai
Zindagi roz naye rang badalti kyoon hai
Dhoop ke qahar ka dar hai to dayar-e-shab se
Sar barhana koi parchhaiyan nikalti kyoon hai
Mujh ko apna na kaha is ka gila tujh se nahin
Is ka shikwa hai ke begana samajhti kyoon hai
Tujh se mil kar bhi na tanhai mitegi meri
Dil mein rah rah ke yahi baat khatakti kyoon hai
Mujh se kya poochh rahe ho meri wahshat ka sabab
Boo-e-awara se poocho ke bhatakti kyoon hai

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام