شہریار — شاعر کی تصویر

جو چاہتی دنیا ہے وہ مجھ سے نہیں ہوگا — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

جو چاہتی دنیا ہے وہ مجھ سے نہیں ہوگا

جو چاہتی دنیا ہے وہ مجھ سے نہیں ہوگا
سمجھوتا کوئی خواب کے بدلے نہیں ہوگا
اب رات کی دیوار کو ڈھانا ہے ضروری
یہ کام مگر مجھ سے اکیلے نہیں ہوگا
خوش فہمی ابھی تک تھی یہی کار جنوں میں
جو میں نہیں کر پایا کسی سے نہیں ہوگا
تدبیر نئی سوچ کوئی اے دل سادہ
مائل بہ کرم تجھ پہ وہ ایسے نہیں ہوگا
بے نام سے اک خوف سے دل کیوں ہے پریشاں
جب طے ہے کہ کچھ وقت سے پہلے نہیں ہوگا

Jo chahti duniya hai woh mujh se nahin hoga

Jo chahti duniya hai woh mujh se nahin hoga
Samjhauta koi khwab ke badle nahin hoga
Ab raat ki deewar ko dhana hai zaruri
Yeh kaam magar mujh se akele nahin hoga
Khush-fahmi abhi tak thi yahi kaar-e-junoon mein
Jo main nahin kar paya kisi se nahin hoga
Tadbeer nayi soch koi ai dil-e-saada
Maayil bah karam tujh pe woh aise nahin hoga
Be-naam se ek khauf se dil kyun hai pareshan
Jab tai hai ki kuchh waqt se pehle nahin hoga

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام