کہاں تک وقت کے دریا کو ہم ٹھہرا ہوا دیکھیں
یہ حسرت ہے کہ ان آنکھوں سے کچھ ہوتا ہوا دیکھیں
بہت مدت ہوئی یہ آرزو کرتے ہوئے ہم کو
کبھی منظر کہیں ہم کوئی ان دیکھا ہوا دیکھیں
سکوت شام سے پہلے کی منزل سخت ہوتی ہے
کہو لوگوں سے سورج کو نہ یوں ڈھلتا ہوا دیکھیں
ہوائیں بادباں کھولیں لہو آثار بارش ہو
زمین سخت تجھ کو پھولتا پھلتا ہوا دیکھیں
دھوئیں کے بادلوں میں چھپ گئے اجلے مکاں سارے
یہ چاہا تھا کہ منظر شہر کا بدلا ہوا دیکھیں
ہماری بے حسی پہ رونے والا بھی نہیں کوئی
چلو جلدی چلو پھر شہر کو جلتا ہوا دیکھیں
شہریار
Kahan tak waqt ke darya ko hum thehra hua dekhein
Yeh hasrat hai ke in aankhon se kuch hota hua dekhein
Bahut muddat hui yeh aarzoo karte hue hum ko
Kabhi manzar kahin hum koi an-dekha hua dekhein
Sukoot-e-shaam se pehle ki manzil sakht hoti hai
Kaho logon se suraj ko na yoon dhalta hua dekhein
Hawaaein baadbaan kholein lahu asaar barish ho
Zameen sakht tujh ko phoolta phalta hua dekhein
Dhuen ke baadalon mein chhup gaye ujle makaan saare
Yeh chaha tha ke manzar shehr ka badla hua dekhein
Hamari be-hisi pe rone wala bhi nahin koi
Chalo jaldi chalo phir shehr ko jalta hua dekhein
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں