کہتا نہیں ہوں لوگو میں کر کے دکھاؤں گا
پھر سے جنوں چراغ ہوائیں جلاؤں گا
آنکھوں نے نیند رخ نہ کیا جانتا تھا میں
تجھ خواب تک رسائی کبھی میں نہ پاؤں گا
سورج ستم نشانہ بنا ہوں اسی لیے
چاہا تھا دھوپ قہر سے تجھ کو بچاؤں گا
تنہا سفر پہ مجھ کو روانہ تو کر دیا
سوچا نہیں کہ تجھ کو بہت یاد آؤں گا
سچ سن نہیں سکے گا کوئی ورنہ جی میں تھا
دنیا کو جیسا دیکھا ہے سب کو بتاؤں گا
بیتے دنوں کے ننھے پرندوں کے سائے میں
جینے کا لطف اور بھی کچھ دن اٹھاؤں گا
شہریار
Kehta nahin hoon logo main kar ke dikhaunga
Phir se junoon charagh hawaen jalaunga
Aankhon ne neend rukh na kiya jaanta tha main
Tujh khwab tak rasai kabhi main na paaunga
Suraj sitam nishana bana hoon isi liye
Chaha tha dhoop qahr se tujh ko bachaaunga
Tanha safar pe mujh ko rawana to kar diya
Socha nahin ke tujh ko bahut yaad aaunga
Sach sun nahin sakega koi warna ji mein tha
Duniya ko jaisa dekha hai sab ko bataunga
Beete dinon ke nanhe parindon ke saaye mein
Jeene ka lutf aur bhi kuchh din uthaunga
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں