شہریار — شاعر کی تصویر

کھلے جو آنکھ کبھی دیدنی یہ منظر ہیں — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

کھلے جو آنکھ کبھی دیدنی یہ منظر ہیں

کھلے جو آنکھ کبھی دیدنی یہ منظر ہیں
سمندروں کے کناروں پہ ریت کے گھر ہیں
نہ کوئی کھڑکی نہ دروازہ واپسی کے لیے
مکان خواب میں جانے کے سیکڑوں در ہیں
گلاب ٹہنی سے ٹوٹا زمین پر نہ گرا
کرشمے تیز ہوا کے سمجھ سے باہر ہیں
کوئی بڑا ہے نہ چھوٹا سراب سب کا ہے
سبھی ہیں پیاس کے مارے سبھی برابر ہیں
حسین ابن علی کربلا کو جاتے ہیں
مگر یہ لوگ ابھی تک گھروں کے اندر ہیں

Khule jo aankh kabhi deedni ye manzar hain

Khule jo aankh kabhi deedni ye manzar hain
Samundaron ke kinaron pe ret ke ghar hain
Na koi khidki na darwaza wapsi ke liye
Makaan-e-khwab mein jaane ke saikadon dar hain
Gulab tehni se toota zameen par na gira
Karishme tez hawa ke samajh se bahar hain
Koi bada hai na chhota sarab sab ka hai
Sabhi hain pyaas ke maare sabhi barabar hain
Hussain ibn-e-Ali Karbala ko jaate hain
Magar ye log abhi tak gharon ke andar hain

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام