شہریار — شاعر کی تصویر

خواب کا در بند ہے — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

خواب کا در بند ہے

میرے لیے رات نے
آج فراہم کیا
ایک نیا مرحلہ
نیندوں سے خالی کیا
اشکوں سے پھر بھر دیا
کاسہ مری آنکھ کا
اور کہا کان میں
میں نے ہر اک جرم سے
تم کو بری کر دیا
میں نے سدا کے لیے
تم کو رہا کر دیا
جاؤ جدھر چاہو تم
جاگو کہ سو جاؤ تم
خواب کا در بند ہے

Khwab ka dar band hai

Mere liye raat ne
Aaj faraham kiya
Ek naya marhala
Neendon se khali kiya
Ashkon se phir bhar diya
Kaasa meri aankh ka
Aur kaha kaan mein
Main ne har ek jurm se
Tum ko bari kar diya
Main ne sada ke liye
Tum ko riha kar diya
Jaao jidhar chaho tum
Jaago ke so jaao tum
Khwab ka dar band hai

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام