شہریار — شاعر کی تصویر

کس کس طرح سے مجھ کو نہ رسوا کیا گیا — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

کس کس طرح سے مجھ کو نہ رسوا کیا گیا

کس کس طرح سے مجھ کو نہ رسوا کیا گیا
غیروں کا نام میرے لہو سے لکھا گیا
نکلا تھا میں صدائے جرس کی تلاش میں
دھوکے سے اس سکوت کے صحرا میں آ گیا
کیوں آج اس کا ذکر مجھے خوش نہ کر سکا
کیوں آج اس کا نام مرا دل دکھا گیا
میں جسم کے حصار میں محصور ہوں ابھی
وہ روح کی حدوں سے بھی آگے چلا گیا
اس حادثے کو سن کے کرے گا یقیں کوئی
سورج کو ایک جھونکا ہوا کا بجھا گیا

Kis kis tarah se mujhko na ruswa kiya gaya

Kis kis tarah se mujhko na ruswa kiya gaya
Ghairon ka naam mere lahoo se likha gaya
Nikla tha main sada-e-jaras ki talaash mein
Dhoke se us sukoot ke sehra mein aa gaya
Kyun aaj uska zikr mujhe khush na kar saka
Kyun aaj uska naam mera dil dukha gaya
Main jism ke hisaar mein mahsoor hoon abhi
Woh rooh ki hadon se bhi aage chala gaya
Is haadse ko sun ke karega yaqeen koi
Suraj ko ek jhonka hawa ka bujha gaya

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام