رات کی کھلی کھڑکی
بند ہونے والی ہے
چاند کے کٹورے میں
اوس بھرنے والی ہے
یہ عجب سفر اس کا
اب تمام ہوتا ہے
لا زوال ہونے کا
دیکھو کیا بہانہ ہے
کل بھی اک حقیقت تھا
آج بھی فسانہ ہے
آسمان کی جانب
سب کے ہاتھ اٹھتے ہیں
اس کے خون کی سرخی
برگ و بار لائے گی
بے نماز بندوں پر
یعنی ان درندوں پر
ہر قدم مصائب کا
انتظار لائے گا
شہریار
Raat ki khuli khirki
Band hone wali hai
Chaand ke katoray mein
Os bharne wali hai
Yeh ajab safar uss ka
Ab tamaam hota hai
La zawaal hone ka
Dekho kya bahana hai
Kal bhi ek haqeeqat tha
Aaj bhi fasana hai
Aasman ki jaanib
Sab ke haath uthte hain
Uss ke khoon ki surkhi
Barg o baar layegi
Be namaz bandon par
Yaani un darindon par
Har qadam masaib ka
Intezaar layega
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں