لاکھ خورشید سر بام اگر ہیں تو رہیں
ہم کوئی موم نہیں ہیں کہ پگھل جائیں گے
ہر گلی کوچے میں رسوا ہوئے جن کی خاطر
کیا خبر تھی کہ وہی لوگ بدل جائیں گے
ان کے پیچھے نہ چلو ان کی تمنا نہ کرو
سائے پھر سائے ہیں کچھ دیر میں ڈھل جائیں گے
قافلے نیندوں کے آئے ہیں انہیں ٹھہرا لو
ورنہ یہ دور بہت دور نکل جائیں گے
شہریار
Lakh khurshid sar-e-baam agar hain to rahen
Hum koi mom nahin hain ke pighal jaayenge
Har gali kooche mein ruswa hue jin ki khatir
Kya khabar thi ke wahi log badal jaayenge
Un ke peeche na chalo un ki tamanna na karo
Saaye phir saaye hi hain kuch der mein dhal jaayenge
Qaafle neendon ke aaye hain unhein thehra lo
Warna yeh door bahut door nikal jaayenge
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں