معبد زیست میں بت کی مثال جڑے ہوں گے
یہ ننھے بچے جس روز بڑے ہوں گے
اتنے دکھی اس درجہ اداس جو سائے ہیں
رات کے دشت میں تیز ہوا سے لڑے ہوں گے
دھوپ کے قہر کی لذت کے شیدائی ہیں
یہ اشجار بھی خواب سے چونک پڑے ہوں گے
ہم کو خلا کی وسعت سے فرصت نہ ملی
لاکھ خزانے اس دھرتی میں گڑے ہوں گے
وہ دن ہوگا آخری دن ہم سب کے لیے
آئینہ دیکھنے جب ہم لوگ کھڑے ہوں گے
شہریار
Ma'bad-e-zeest mein but ki misal jure honge
Ye nanhe bachche jis roz bade honge
Itne dukhi is darja udaas jo saaye hain
Raat ke dasht mein tez hawa se lade honge
Dhoop ke qahr ki lazzat ke shaidaayi hain
Ye ashjaar bhi khwab se chaunk pade honge
Hum ko khala ki wusat se fursat na mili
Lakh khazane is dharti mein gade honge
Wo din hoga aakhri din hum sab ke liye
Aaina dekhne jab hum log khade honge
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں