شہریار — شاعر کی تصویر

منظر گزشتہ شب کے دامن میں بھر رہا ہے — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

منظر گزشتہ شب کے دامن میں بھر رہا ہے

منظر گزشتہ شب کے دامن میں بھر رہا ہے
دل پھر کسی سفر کا سامان کر رہا ہے
یا رت جگوں میں شامل کچھ خواب ہو گئے ہیں
چہرہ کسی افق کا یا پھر ابھر رہا ہے
یا یوں ہی میری آنکھیں حیران ہو گئی ہیں
یا میرے سامنے سے پھر تو گزر رہا ہے
دریا کے پاس دیکھو کب سے کھڑا ہوا ہے
یہ کون تشنہ لب ہے پانی سے ڈر رہا ہے
ہے کوئی جو بتائے شب کے مسافروں کو
کتنا سفر ہوا ہے کتنا سفر رہا ہے

Manzar guzishta shab ke daman mein bhar raha hai

Manzar guzishta shab ke daman mein bhar raha hai
Dil phir kisi safar ka saman kar raha hai
Ya rat jagon mein shamil kuch khwaab ho gaye hain
Chehra kisi ufuq ka ya phir ubhar raha hai
Ya yoon hi meri aankhein hairan ho gayi hain
Ya mere samne se phir tu guzar raha hai
Darya ke paas dekho kab se khada hua hai
Yeh kaun tishna-lab hai paani se dar raha hai
Hai koi jo bataye shab ke musafiron ko
Kitna safar hua hai kitna safar raha hai

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام