شہریار — شاعر کی تصویر

مشعل درد پھر ایک بار جلا لی جائے — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

مشعل درد پھر ایک بار جلا لی جائے

مشعل درد پھر ایک بار جلا لی جائے
جشن ہو جائے ذرا دھوم مچا لی جائے
خون میں جوش نہیں آیا زمانہ گزرا
دوستو آؤ کوئی بات نکالی جائے
جان بھی میری چلی جائے تو کچھ بات نہیں
وار تیرا نہ مگر ایک بھی خالی جائے
جو بھی ملنا ہے ترے در ہی سے ملنا ہے اسے
در ترا چھوڑ کے کیسے یہ سوالی جائے
وصل کی صبح کے ہونے میں ہے کچھ دیر ابھی
داستاں ہجر کی کچھ اور بڑھا لی جائے

Mash'al-e-dard phir ek baar jala li jaaye

Mash'al-e-dard phir ek baar jala li jaaye
Jashn ho jaaye zara dhoom macha li jaaye
Khoon mein josh nahin aaya zamana guzra
Dosto aao koi baat nikali jaaye
Jaan bhi meri chali jaaye to kuchh baat nahin
Waar tera na magar ek bhi khaali jaaye
Jo bhi milna hai tere dar hi se milna hai usay
Dar tera chhoR ke kaise yeh sawaali jaaye
Wasl ki subah ke hone mein hai kuchh der abhi
Dastaan-e-hijr ki kuchh aur baRha li jaaye

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام