شہریار — شاعر کی تصویر

موت — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

موت

ابھی نہیں ابھی زنجیر خواب برہم ہے
ابھی نہیں ابھی دامن کے چاک کا غم ہے
ابھی نہیں ابھی در باز ہے امیدوں کا
ابھی نہیں ابھی سینے کا داغ جلتا ہے
ابھی نہیں ابھی پلکوں پہ خوں مچلتا ہے
ابھی نہیں ابھی کم بخت دل دھڑکتا ہے

Maut

Abhi nahin abhi zanjeer-e-khwab barham hai
Abhi nahin abhi daaman ke chaak ka gham hai
Abhi nahin abhi dar baaz hai ummeedon ka
Abhi nahin abhi seene ka daagh jalta hai
Abhi nahin abhi palkon pe khoon machalta hai
Abhi nahin abhi kam-bakht dil dhadakta hai

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام