شہریار — شاعر کی تصویر

نجمہؔ کے لیے ایک نظم — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

نجمہؔ کے لیے ایک نظم

کیا سوچتی ہو
دیوار فراموشی سے ادھر کیا دیکھتی ہو
آئینہ خواب میں آنے والے لمحوں کے منظر دیکھو
آنگن میں پرانے نیم کے پیڑ کے سائے میں
بھیو کے جہاز میں بیٹھی ہوئی ننھی چڑیا
کیوں اڑتی نہیں
جنگل کی طرف جانے والی وہ ایک اکیلی پگڈنڈی
کیوں مڑتی نہیں
ٹوٹی زنجیر صداؤں کی کیوں جڑتی نہیں
اک سرخ گلاب لگا لو اپنے جوڑے میں
اور پھر سوچو

Najma ke liye ek nazm

Kya sochti ho
Deewar-e-faramoshi se idhar kya dekhti ho
Aaina-e-khwab mein aane wale lamhon ke manzar dekho
Aangan mein purane neem ke ped ke saaye mein
Bhiyon ke jahaz mein baithi hui nanhi chidiya
Kyun udti nahin
Jangal ki taraf jaane wali woh ek akeli pagdandi
Kyun mudti nahin
Tooti zanjeer sadaaon ki kyun judti nahin
Ek surkh gulab laga lo apne jode mein
Aur phir socho

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام