شہریار — شاعر کی تصویر

نیا امرت — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

نیا امرت

دواؤں کی المایوں سے سجی اک دکاں میں
مریضوں کے انبوہ میں مضمحل سا
اک انساں کھڑا ہے
جو اک نیلی کبڑی سی شیشی کے سینے پہ لکھے ہوئے
ایک اک حرف کو غور سے پڑھ رہا ہے
مگر اس پہ تو ''زہر'' لکھا ہوا ہے
اس انسان کو کیا مرض ہے
یہ کیسی دوا ہے؟

Naya amrit

Duaon ki almaariyon se saji ek dukan mein
Mareezon ke ambuh mein muzmahil sa
Ek insaan khada hai
Jo ek neeli kapdi si sheeshi ke seene pe likhe hue
Ek ek harf ko ghaur se padh raha hai
Magar is pe to ''zehr'' likha hua hai
Is insaan ko kya marz hai
Yeh kaisi dawa hai?

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام