اے اہل شہر آؤ چلو اس طرف چلو
کہانیوں کی دھند سے آگے ذرا ادھر
وہ سامنے کھلا ہوا میدان ہے جہاں
اک ایسا کھیل پیش کیا جائے گا وہاں
جو آج تک کسی نے بھی دیکھا نہیں کبھی
یعنی تمہاری جاگتی آنکھوں کے سامنے
آوازوں کے نجوم صداؤں کے ماہتاب
سناٹوں کی صلیب پہ لٹکائے جائیں گے
شہریار
Aye ahl-e-shahr aao chalo is taraf chalo
Kahaniyon ki dhund se aage zara idhar
Wo saamne khula hua maidaan hai jahan
Ik aisa khel pesh kiya jaayega wahan
Jo aaj tak kisi ne bhi dekha nahin kabhi
Yaani tumhari jaagti aankhon ke saamne
Awazon ke nujoom sadaon ke mahtaab
Sannaton ki saleeb pe latkaye jaayenge
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں