شہریار — شاعر کی تصویر

نیا افق — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

نیا افق

کیا تم کو یہ پتہ ہے
اے ناسمجھ رفیقو
روز ازل سے جس پر
تم گامزن رہے ہو
وہ راستہ خلا کی
سرحد سے جا ملا ہے
مشعل جلاؤ دیکھو
بپھری ہوئی ہوا میں
آئینۂ صدا میں
چہرہ کسی افق کا
پھر سے ابھر رہا ہے

Naya ufuq

Kya tum ko yeh pata hai
Ae naasamajh rafeeqo
Roz-e-azal se jis par
Tum gamzan rahe ho
Woh raasta khala ki
Sarhad se ja mila hai
Mash'al jalaao dekho
Biphri hui hawa mein
Aaina-e-sada mein
Chehra kisi ufuq ka
Phir se ubhar raha hai

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام