شہریار — شاعر کی تصویر

نئے عہد کا نیا سوال — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

نئے عہد کا نیا سوال

یہ بات روز ازل سے طے ہے
زمین جسموں کا بوجھ اٹھائے گی
آسماں پر رہیں گی روحیں
مگر کوئی ہے جو یہ بتائے
ہماری پرچھائیوں کی قبریں
کہاں بنیں گی؟

Naye Ahad ka Naya Sawaal

Yeh baat roz-e-azal se tai hai
Zameen jismon ka bojh uthaegi
Aasmaan par rahengi roohein
Magar koi hai jo yeh bataaye
Hamari parchhaiyon ki qabrein
Kahan banengi?

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام