یہ بات روز ازل سے طے ہے
زمین جسموں کا بوجھ اٹھائے گی
آسماں پر رہیں گی روحیں
مگر کوئی ہے جو یہ بتائے
ہماری پرچھائیوں کی قبریں
کہاں بنیں گی؟
شہریار
Yeh baat roz-e-azal se tai hai
Zameen jismon ka bojh uthayegi
Aasmaan par rahengi roohen
Magar koi hai jo yeh bataye
Hamaari parchhaiyon ki qabren
Kahan banengi?
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں