نکلا ہے چاند شب کی پذیرائی کے لئے
یہ عذر کم ہے انجمن آرائی کے لئے
تھا بولنا تو ہو گئے خاموش ہم سبھی
کیا کچھ کیا ہے شہرت و رسوائی کے لئے
پل بھر میں کیسے لوگ بدل جاتے ہیں یہاں
دیکھو کہ یہ مفید ہے بینائی کے لئے
سرسبز میری شاخ ہنر کیوں نہیں ہوئی
یہ مسئلہ ہے تیرے تمنائی کے لئے
ہے آج یہ گلہ کہ اکیلا ہے شہریارؔ
ترسو گے کل ہجوم میں تنہائی کے لئے
شہریار
Nikla hai chand shab ki pazeerai ke liye
Ye uzr kam hai anjuman aaraai ke liye
Tha bolna to ho gaye khamosh hum sabhi
Kya kuch kiya hai shohrat-o-ruswai ke liye
Pal bhar mein kaise log badal jaate hain yahan
Dekho ke ye mufid hai beenaai ke liye
Sarsabz meri shaakh-e-hunar kyun nahin hui
Ye masla hai tere tamannaai ke liye
Hai aaj ye gila ke akela hai Shahryar
Tarso ge kal hujoom mein tanhai ke liye
کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...
مکمل تعارف پڑھیں