شہریار — شاعر کی تصویر

نکلا ہے چاند شب کی پذیرائی کے لئے — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

نکلا ہے چاند شب کی پذیرائی کے لئے

نکلا ہے چاند شب کی پذیرائی کے لئے
یہ عذر کم ہے انجمن آرائی کے لئے
تھا بولنا تو ہو گئے خاموش ہم سبھی
کیا کچھ کیا ہے شہرت و رسوائی کے لئے
پل بھر میں کیسے لوگ بدل جاتے ہیں یہاں
دیکھو کہ یہ مفید ہے بینائی کے لئے
سرسبز میری شاخ ہنر کیوں نہیں ہوئی
یہ مسئلہ ہے تیرے تمنائی کے لئے
ہے آج یہ گلہ کہ اکیلا ہے شہریارؔ
ترسو گے کل ہجوم میں تنہائی کے لئے

Nikla hai chand shab ki pazeerayi ke liye

Nikla hai chand shab ki pazeerayi ke liye
Yeh uzr kam hai anjuman aaraayi ke liye
Tha bolna to ho gaye khamosh hum sabhi
Kya kuch kiya hai shohrat-o-ruswai ke liye
Pal bhar mein kaise log badal jaate hain yahan
Dekho ke yeh mufid hai beenayi ke liye
Sarsabz meri shaakh-e-hunar kyun nahin hui
Yeh masla hai tere tamannayi ke liye
Hai aaj yeh gila ke akela hai Shehryaar
Tarso ge kal hujoom mein tanhayi ke liye

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام