شہریار — شاعر کی تصویر

نسبت رہے تم سے سدا حضرت نظام الدین جی — شہریار

شاعر

تعارف شاعری

نسبت رہے تم سے سدا حضرت نظام الدین جی

نسبت رہے تم سے سدا حضرت نظام الدین جی
مانگوں میں کیا اس کے سوا حضرت نظام الدین جی
آنکھوں پہ یوں چھائے ہو تم ہر جا نظر آئے ہو تم
کیسا جنوں مجھ کو ہوا حضرت نظام الدین جی
ہاتھوں سے تم نے جو کیا روشن وفا کا اک دیا
آندھی کی زد میں وہ جلا حضرت نظام الدین جی
لیتے تھے اللہ نام جو جپتے تھے دل میں رام جو
تم نے کیا سب کا بھلا حضرت نظام الدین جی
خسروؔ کی آنکھوں سے کبھی دیکھے اگر تم کو کوئی
احوال ہوگا اس کا کیا حضرت نظام الدین جی

Nisbat rahe tum se sada Hazrat Nizamuddin Ji

Nisbat rahe tum se sada Hazrat Nizamuddin Ji
Maangoon main kya uske siwa Hazrat Nizamuddin Ji
Aankhon pe yun chhaye ho tum har jaa nazar aaye ho tum
Kaisa junoon mujhko hua Hazrat Nizamuddin Ji
Haathon se tum ne jo kiya roshan wafa ka ik diya
Aandhi ki zad mein woh jala Hazrat Nizamuddin Ji
Lete the Allah naam jo japte the dil mein Ram jo
Tum ne kiya sab ka bhala Hazrat Nizamuddin Ji
Khusro' ki aankhon se kabhi dekhe agar tum ko koi
Ahwal hoga uska kya Hazrat Nizamuddin Ji

شاعر کے بارے میں

شہریار

کنور محمد اخلاق دنیائے ادب میں شہر یار کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وہ 16 جون 1936کو آنولہ، ضلع بریلی، اُتر پردیش میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم ہردوئی میں حاصل کی۔ 1948میں علی گڑھ آئے۔ 1961 میں اردو میں ایم اے کیا۔ 1966میں شعبہ اردو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں لیکچرر ہوئے۔ 1996میں یہیں سے پروفیسر اور صدر اردو کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ ہاکی، بیڈمنٹن اور...

مکمل تعارف پڑھیں

دیگر کلام